کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جب بیس رکعات تراویح کا ثبوت سرکار رسالت مآب ﷺ سے نہیں ہے،تو اسے سنت پھر سنت مؤکدہ کیوں کہا گیا،کیا صحابہ کے عمل سے بھی سنت کا ثبوت ہو سکتا ہے،جواب مبرہن سے نواز کر منت نوازی فرمائیں۔
سائل:جابر حنفی
پوٹہ کلاں پیلی بھیت
الجواب
یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ بیس رکعات تراویح کا ثبوت سرکار رسالت مآب ﷺ سے نہیں ہے،بلکہ حضور ﷺ نے بھی دو رات تراویح بیس رکعات ہی اد فرمائی،البتہ آپ سے استمرار ثابت نہیں یعنی جب تیسری رات میں تراویح پڑھانے کا وقت آیا تو آپ نے تراویح فرض ہوجانے کے خوف سے ساقط فرمادی،
چنانچہ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی شافعی تلخیص الجبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر میں حدیث شریف تحریر کرتے ہیں:
‘’حدیث:أنه صلى الله عليه و سلم صلى بالناس عشرين ركعة ليلتين فلما كان فى الليلة الثالثة،اجتمع الناس،فلم يخرج إليهم،ثم قال من الغد:و خشيت أن تفرض عليكم فلا تطيقوها.متفق على صحته”
ترجمہ:آپ صلی اللہ ﷺ نے صحابہ کو بیس رکعات تراویح دو راتیں پڑھائیں،پس جب تیسری رات ہوئی،تو صحابۂ کرام جمع ہو گیے،لیکن حضور ﷺ ان کی طرف نہ نکلے،پھر حضور ﷺ نے دوسرے دن فرمایا:مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کردی جاۓ،اور تم اس کی طاقت نہ رکھو،اس کی صحت پر اتفاق ہے۔ [تلخيص الجبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير،ج:٢،ص:٤٥،كتاب الصلاة،باب صلاة التطوع،رقم الحديث:٥٤١،مؤسسة قرطبة-مصر-]
امام بخاری کے استاذ حافظ ابو بکر عبد اللہ بن ابو شیبہ اپنی مصنف میں روایت کرتے ہیں:
“حدثنا يزيد بن هارون قال أنا ابراهيم بن عثمان عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن رسول الله ﷺ كان يصلى فى رمضان عشرين ركعة و الوتر”
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ رمضان شریف میں بیس رکعات نماز تراویح اور وتر پڑھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبة،ص:٣٩٥،كتاب الصلاة،باب:٧٢١-٧٢٢،رقم الحديث:٧٧٦٦،مكتبة الرشد]
اس روایت کو دوسری حدیث سے تقویت پہنچتی ہے،چنانچہ امام حافظ ابو القاسم حمزہ بن یوسف سہمی متوفی 427ھ اپنی کتاب کتاب معرفۃ علماء أھل جرجان میں ایک روایت نقل کرتے ہیں:
"حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَصْرِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحنازِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النبي صلى اللَّه عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى النَّاسُّ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ رَكْعَةً وَأَوْتَرَ بِثَلاثَةٍ.”
ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورﷺ رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے۔ لوگوں کو چار (فرض) اور بیس رکعات (تراویح) اور تین وتر پڑھائے۔ [تاريخ جرجان-للسهمي(م427هـ)،ص:286، » حرف العين » من اسمه عَلِي » أَبُو الْحَسَن عَلِي بْن مُحَمَّد بْن أَحْمَدَ بْن … رقم الحديث: 556]،دائرة المعارف العثمانية حيدرآباد دكن الهند]
معلوم ہوا کہ حضورﷺ نے جو دو رات تراویح ادا فرمائی پھر فرضیت کے خوف سے ترک فرمادی،اس کی تعداد بیس رکعات تھی،لہذا یہ کہنا کہ حضورﷺ سے بیس رکعات کا ثبوت نہیں،قطعی غلط ہے،البتہ بیس رکعات تراویح پر تاکیدی عمل اور دوام و استمرار دور فاروقی سے جاری ہوا،دور صدیقی فتنوں اور آزمائشوں کی کثرت اور مدت خلافت کی قلت کے باعث اس سنت کے قیام سے خالی رہا،
چنانچہ ملا علی قاری حنفى مرقات المفاتیح میں لکھتے ہیں:
“و إن كانت لم تكن فى عهد أبى بكر رضي الله عنه فقد صلاها رسول الله ﷺ و إنما قطعها إشفاقا من أن تفرض على أمته و كان عمر ممن تنبه عليها و سنها على الدوام،فله أجرها و أجر من عمل بها إلى يوم القيامة”
ترجمہ:اگر چہ تراویح با جماعت حضرت ابو بکر کے زمانے میں نہیں تھی،لیکن چوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا تھا،اور پھر اس کو امت پر فرض ہو جانے کے خوف سے ترک کیا۔اور حضرت عمر ان لوگوں میں سے تھے جو اس حقیقت سے باخبر تھے،انھوں نے دائمی طور پر جاری فرمادیا تو انھیں اس کا بھی اجر ہے اور قیامت تک جو لوگ عمل کرتے رہیں گے ان کا بھی اجر ہے۔ [مرقات المفاتيح،ج:٣،ص:٣٤٢،كتاب الصلاة،باب قيام شهر رمضان،دار الكتب العلمية بيروت]
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیس رکعات تراویح ادا کرنےکا تاکیدی حکم فرمایا،اور صحابہ کے مجمع میں یہ فیصلہ قائم ہوا،اور کسی نے اس سے انکار نہیں کیا،
چنانچہ سیر اعلام النبلا میں ہے:
‘’و فى سنن أبى داؤد:يونس بن عبيد عن الحسن أن عمر بن الخطاب جمع الناس على أبي بن كعب فى قيام رمضان فكانت يصلى بهم عشرين ركعة”
ترجمہ: سنن ابو داؤد میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے رمضان شریف میں نماز تراویح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعب کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا،تو حضرت ابی بن ان کو بیس رکعات نماز تراویح پڑھاتے تھے۔ [سیرأعلام النبلاء،ج:١،ص:٤٠٠،مؤسسة الرسالة]
اوجز المسالک میں ہے:
“حديث يحي بن سعيد أن عمر بن الخطاب أمر رجلا يصلى بهم عشرين ركعة،رواه ابن أبى شيبة فى مصنفه و إسناده مرسل قوي قاله النيموي”
ترجمہ:یحی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات نماز تراویح پڑھاۓ،اس کو ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں روایت کیا ہے،اور اس کی اسناد قوی مرسل ہے،اس بات کو علامہ نیموی نے کہا. [أوجز المسالك،ج:٢،ص:٥٣٦،كتاب الصلاة فى رمضان،دار القلم دمشق]
مسند ابن جعد میں حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے:
“كانوا يقومون على عهد عمر فى شهر رمضان بعشرين ركعة و إن كانوا ليقرؤن بالمئين من القرآن”
ترجمہ:لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینے میں بیس رکعات نماز تراویح پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سو آیات پڑھتے تھے۔ [مسند علي بن الجعد،ج:١،ص:١٠١٠،رقم الحديث:٢٩٢٦،مكتبة الفلاح]
حضرت سائب بن یزید کے دونوں شاگرد حضرت حارث بن عبد الرحمن اور حضرت یزید بن خصیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما بیس رکعات تراویح کے ہی راوی ہیں،ان کی روایات سنن بیہقی اور عمدۃ القاری میں مذکور ہیں۔
دور فاروقی کے بعد حضرت عثمان غنی پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنھما نے بھی بیس رکعات تراویح ادا کرنے کا حکم فرمایا اور عمل فاروقی کو جاری رکھا،ان کی روایات سنن بیھقی، منہاج السنہ اور مسند امام زید میں موجود ہیں۔
ان تمام تفصیلات کے بعد واضح ہو کہ جس طرح رسول کریم ﷺ کی تائید قولی و فعلی سے سنت مؤکدہ کا ثبوت ہو جاتا ہے،اسی طرح صحابۂ کرام کے تاکیدی اقوال و افعال سے بھی سنت مؤکدہ ثابت ہوتی ہے۔
چنانچہ حضرت عبد العزیز بخاری حنفی متوفی 730ھ اصول بزدوی کی شرح کشف الاسرار میں لکھتے ہیں:
“و عندنا أقوال الصحابة ححة،فيكون أفعالهم سنة؛ لأنها طريقة أمرنا بإحيائها…بقوله عليه السلام:عليكم بسنتي الحديث”
ترجمہ: ہمارے نزدیک صحابہ کے اقوال حجت ہیں،تو ان کے افعال بھی سنت ہوۓ،کیوں کہ حدیث پاک”میری اور میرے خلفاے راشدین کی سنت کو لازم جانو”سے ہمیں سنت صحابہ کے احیا کا حکم دیا گیا ہے۔ [كشف الأسرار،ج:٢،ص:447،باب العزيمة و الرخضة،دار الكتب العلمية بيروت]
مزید فرماتے ہیں:
“و أما التراويح فى رمضان فإنه سنة الصحابة،فإنه لم يواظب عليها رسول الله ﷺ بل واظب عليها الصحابة،و هذا مما يندب إلى تحصيله و يلام على تركه و لكنه دون ما واظب عليه رسول الله ﷺ فإن سنة النبي أقوى من سنة الصحابة و هذا عندنا”
ترجمہ:رمضان میں تراویح صحابہ کی سنت ہے؛کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر مواظبت نہیں فرمائی،بلکہ صحابہ نے مواظبت فرمائی ہے،صحابہ کی مواظبت سے جو چیز ثابت ہو،اس پر عمل کے لیے رغبت دی جاتی ہے،اور چھوڑنے پر ملامت کی جاتی ہے،لیکن رسول اللہ ﷺ کی مواظبت سے ثابت شدہ چیز سے کم؛ کیوں کہ سنت نبوی سنت صحابہ سے قوی تر ہے۔ [کشف الاسرار،ج:2،ص:447،باب العزیمة و الرخصة،دار الكتب العلمية بيروت]
لہذا بیس رکعات تراویح کے سنت مؤکدہ ہونے میں کوئی خفا نہیں،چوں کہ ان کا تاکیدی ثبوت خلفاے راشدین کے اقوال و افعال سے منقول ہے،اور جب عام صحابہ کے افعال و اقوال حجت ہیں،اور ان سے سنت کا ثبوت ہوتا ہے،تو خلفاے راشدین کے اقوال و افعال سے بدرجۂ اولی سنت کا حکم مستفاد ہوگا،جبکہ خلفاے راشدین کی سنتوں پر عمل کرنے کا حکم صریح احادیث میں مخصوص ہے،
چنانچہ سنن ابو داؤد میں حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے:
“فانه من يعش منكم بعدي،فسيرى اختلافا كثيرا،فعليكم بسنتي و سنة الخلفاء المهديين الراشدين من بعدي،تمسكوا بها و عضوا عليها بالنواجذ”
ترجمہ:حضور رسالت مآب ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا تو وہ بہت زیادہ اختلاف وانتشار کو دیکھے گا،پس تم پر میرے بعد میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاے راشدین کی سنتوں پر عمل لازم ہے،تم ان کو داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا۔ [سنن أبى داؤد،ج:٥،ص:١٣،كتاب السنة،باب فى لزوم السنة،رقم الحديث:٤٦٠٧،دار ابن حزم]
واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه:
بندہ عاصی محمد ہاشم علی بدیعی مصباحی غفر لہ
نزیل حال لالولوار ضلع مرادآباد
و خادم التدریس جامعہ عربیہ مدار العلوم مدینۃ الاولیا مکن پور شریف
9/رمضان المبارک 1443ھ
الجواب صحیح:
خوشنود خان مداری عفی عنہ
صدر المدرسین مدرسہ مدار العلوم گوبندہ پور بریلی و ناظم اعلیٰ دار الافتا مداریہ





