السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں ہمارے یہاں تراویح کے بعد برسوں سے سلام پڑھا جارہا ہے لیکن اس بار امام صاحب نے کہا یہ سلام پڑھنا معمول نہ بناو اس سے آنے والی نسلوں میں غلط اثر پڑیگا سلام پڑھنا نہ سنت ہے نہ واجب ہے نہ فرض ہے ایسے لوگوں کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
العارض:
محمد عارف علوی
بندی راجستھان
الجواب بتوفیق اللہ الوھاب
تراویح کے بعد بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں اجتماعی طور پر صلات و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے،اس کے حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں،البتہ اس کا حکم فقط جواز تک محدود ہے،لہذا اگر یہ عمل واجب یا فرض سمجھ کر کیا جاتا ہے،تو یہی عمل مباح اب مکروہ ہو جاۓ گا،اور اسے نہ کرنے کا حکم ہوگا،اور اگر جائز و مستحسن سمجھ کر کیا جاتا ہے،تو کوئی حرج نہیں،بلکہ باعث برکت ہے،اور امام صاحب اس لیے منع کرتے ہیں کہ عوام اسے واجب یا فرض سمجھ کر کرتی ہے،یا واجب یا فرض سمجھ لینے کا ڈر ہے،تو امام صاحب کا منع کرنا درست ہے،اس پر عمل بجا لانا چاہیے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰۤئكَتَهُۥ یُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِیِّۚ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَیۡهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسۡلِیمًا” [سورة الأحزاب:٥٦]
رد المحتار میں ہے:
"الاصل فى الأشياء الإباحة،ففى تحرير ابن الهمام: المختار الإباحة عند جمهور الحنفية و الشافعية” [رد المحتار،ج:6،ص:268،کتاب الجھاد،باب استیلاء الکفار،دار عالم الکتب ریاض]
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وأما إذا سجد بغیر سبب، فلیس بقربة، ولا مکروہ، وما یفعل عقیب الصلاۃ، مکروہ؛ لأن الجهال یعتقدونها سنة، أو واجبة، وکل مباح یؤدي إلیه فمکروہ” [الفتاوى الهندية،ج:١،ص:١٥٠،كتاب الصلاة،الباب الثالث عشر فى سجود التلاوة،دار الكتب العلمية بيروت]
فیض القدیر میں ہے:
"من أصر على أمر مندوب و جعله عزما و لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال” [فيض القدير،ج:٢،ص:٢٩٣،دار المعرفة بيروت]
والله تعالیٰ اعلم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــه:
احقر العباد تسلیم مداری مصباحی علیگ عفی عنہ
5/رمضان المبارک 1443ھ
الجواب صحیح:
خوشنود خان مداری غفر لہ
صدر المدرسین مدرسہ مدار العلوم گووندہ پور بریلی و ناظم اعلیٰ دار الافتا مداریہ





