السلام علیکم
میرے پردے میں وحدت کے سوا کیا ہے
جا جو تجھے لینا ہے محمد کے شہر میں
علماء کرام رہنمائی فرمائیں کیا یہ شعر صحیح ہے
محمّد فیضان بہیڑی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اس شعر کے پہلے مصرعے "میرے پردے میں وحدت کے سوا کیا ہے” کے بارے میں دو پہلو ذکر کیے جاتے ہیں:
1 ـ عقیدے کا پہلو
عقیدے کے اعتبار سے "وحدت” اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔
اسے کسی مخلوق یا اپنے نفس کے لیے استعمال کرنا محلِّ نظر ہے، کیونکہ اس سے وحدتِ باری تعالیٰ کے حلول یا ظہور کا وہم پڑ سکتا ہے، جو کہ عقیدۂ اہلِ سنت کے خلاف ہے۔
اسی بنا پر یہ مصرع بظاہر ایک ایسا معنی دیتا ہے جو صوفیانہ تعبیرات میں بھی نہایت نازک اور اکثر غلط فہمی کا سبب بنتا ہے۔
2 ـ ذکرِ الٰہی کا پہلو
اگر شاعر کی مراد اس مصرع سے یہ ہو کہ:
میرے دل و باطن میں اللہ کے ذکر کے سوا کچھ نہیں
تو یہ معنی درست اور قابلِ قبول ہے۔
جیسا کہ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند مصطفیٰ رضا خان صاحب نے فرمایا:
تیرا ذکر لب پر، خدا دل کے اندر
یونہی زندگانی گزارا کروں میں
اس معنی کے اعتبار سے شعر میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا، کیونکہ ذکرِ الٰہی کا دل میں غالب ہونا تمام اولیاء و صالحین کی شان ہے۔
واللہ اعلم بالصواب





