مفتی اسرافیل حیدری مداری مفتی مشرف عقیل امجدی مداری مفتی آصف خان مداری مفتی اکبر خان مداری مفتی محمد عمران کاظم مصباحی مداری

شوہر کا رخصتی سے پہلے انتقال کیا بیوی عدت گزارے گی؟

On: جون 16, 2025 4:22 شام
Follow Us:

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ 08/06/2025 عیسوی کو بکر کا ہندہ کے ساتھ نکاح ہوا بکر نے کہا کہ ہم رخصتی ابھی نہیں کرنا چاہتے اکتوبر میں رخصتی کر لیں گے ۔ لیکن نکاح کے چار یا پانچ دن کے بعد قضائے الٰہی سے ایک حادثے میں بکر کا انتقال ہو گیا ۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ جو بکر کی منکوحہ ہے وہ عدت گزارے گی یا نہیں ؟ حالانکہ ہندہ غیر مدخولہ ہے کیونکہ اس کی ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی بایں سبب خلوتِ صحیحہ بھی نہیں پائی گئی ۔
مسئلہ کا شریعت کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی ۔
سائل : عمران جعفری بہیڑی ضلع بریلی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب
صورتِ مسئولہ میں ہندہ جو کہ بکر کی بیوی ہے ۔ کیونکہ باقاعدہ نکاح کے فوراً بعد ہی میاں بیوی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے رخصتی ہوئی ہو یا نہیں ، خلوت صحیحہ پائی گئی ہو یا نہیں ۔
اور عدتِ وفات میں دخول اور خلوتِ صحیحہ بے معنی ہیں ۔ کیوں کہ دخول اور خلوتِ صحیحہ پر غور و بحث طلاق کے مسئلے میں ہے وفات کے مسئلے میں نہیں ۔
لھٰذا ہندہ عدت گزارے گی اور وہ عدت چار ماہ اور دس دن کی ہوگی ۔

چنانچہ اللّٰہ رب العالمین کا فرمان عالیشان ہے
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهرٍ وَعَشْرًا )القرآن الکریم/ پارہ 2 / سورۃ البقرة / آیت 234( ترجمہ :-اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑیں (تو وہ) بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں ۔ یعنی چار مہینے اور دس دن کی عدت گزاریں !

فتاویٰ تاتارخانیہ میں دیکھیں ۔
وعدة المتوفی عنها زوجها إذا کانت غیر حامل وهي حرة أربعة أشهر وعشرًا ، یستوي في ذٰلک الدخول وعدم الدخول والصغر والکبر ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیة / جلد 5 / صفحہ 228 / مطبوعہ زکریا بک ڈپو دیوبند پو پی(
ترجمہ :- جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو ، جب کہ وہ حاملہ نہ ہو اور آزاد ہو تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے ۔
اس میں (حکم مطلقاً) ہے عورت خواہ مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ خواہ بچہ ہو بوڑھا سب برابر ہیں ۔

در مختار مع فتاویٰ شامي دیکھیں ۔
فالعدة للموت أربعة أشهر وعشرًا مطلقاً وطئت أو لا ۔ ( الدر المختار مع الشامي / جلد 5 / صفحہ 188 / مطبوعہ زکریا بک ڈپو دیوبند پو پی(
ترجمہ :-موت کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے ، قطع نظر اس کے کہ اس سے ہمبستری کی گئی ہو یا نہیں ۔
و اللّٰہ و رسولہ اعلم بالصواب

کتبہ
محمد عمران کاظم مصباحی المداری مرادآبادی
خادم :- دار الافتاء الجامعۃ العربیہ سید العلوم بدیعیہ مداریہ محلہ اسلام نگر بہیڑی ضلع بریلی اترپردیش الہند
تاریخ 15/ جون 2025 عیسوی مطابق 18 / ذی الحجہ 1446 ہجری بروز اتوار ۔

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقط سید نثار حسین جعفری المداری نادر مصباحی مکن پور شریف کان پور نگر یو پی الہند
خادم الافتاء :- دار الافتاء الجامعۃ العربیہ سید العلوم بدیعیہ مداریہ محلہ اسلام نگر بہیڑی ضلع بریلی اترپردیش الہند ۔
……………………………………

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment